Friday, 16 December 2011

ye dunya dadi bedard hai



یہ دنیا بدی بیدرد ہے.

یہ دنیا بدی خودغرض ہے.




یہاں کا جینا یہا کا مارنا

یہاں پر آنا بھی ایک بہانہ.

یہاں سے جانا بھی ایک بہانہ.




.............................یہ دنیا

.....................................




یہاں کی عید یہاں کی دیوالی.

ہر در پر کھڑا ہے ایک سوالی.

نہیں جایا کرتے اس موڈ سے کھڑا ہے ایک موالی.




......................................یہ دنیا

..........................................




عمری غریبی بھی ہے ایک کہانی.

یہ صدیوں کی ہے ریت پرانی.

دولت کا کیا ہے بندے یہ تو ہے آنی جانی.

............................................یہ دنیا

..............................................




یہاں کا ملنا یہاں کا بچھڑنا

جیسے رات کا جانا دیں کا آنا.

ہنستے روتے پھر سے سو جانا




........................................یہ دنیا

..........................................




یہاں کے رشتے یہاں کے ناتے

پنچھی کے پر ہیں کب ہیں بیٹھے کب اڑ جاتے

یہ سب سیکھا ہے ہمنے بس آتے جاتے.




.........................................یہ دنیا

.............................................




کاغذ کی کشتی کب تک چلتی

بنا پتوار یہ نہ جانے کب تک بہتی

کوئی کیا جانے کیا ہے جواد کی ہستی




...........................................یہ دنیا

..............................................




بقلم

جواد مہدی

No comments:

Post a Comment